Thursday, 7 June 2018

Imraniyaat


کمرہ عدالت کے 2 گھنٹے
عمرانیات
عمران یوسفزئی

ہم نے عوام کو ساری زندگی حکمرانوں کے سامنے ہاتھ جوڑے فریاد کرتے ہی دیکھا ہے، عوامی مسائل کے حل کا نعرہ لگا کر عوام ہی کے ووٹوں سے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کے بعد وہ کیسے اپنے لوگوں کو بھول جاتے ہیں یہ بہت ہی عام سی بات ہے، لیکن کبھی کبھی ان حکمرانوں اور زور آوروں کو بھی ہاتھ باندھنا پڑ جاتے ہیں، فریاد کرنا پڑ جاتی ہے اور اپنے عوام کی طرح گڑگڑانا بھی پڑ جاتا ہے۔ آخرت میں اللہ کی عدالت میں تو سب ہی جواب دہ ہونگے جہاں اس کائنات کے مالک اور خالق کو نہ کسی شہادت کی ضرورت ہوگی اور نہ ہی گواہ کی۔۔۔۔اور نہ ہی وہاں کسی کی سفارش یا پرچی چلے گی۔ لیکن دنیاوی عدالتیں بھی اگر صحیح طورانصاف کرنا شروع کردیں تو بلاشبہ تکالیف اور مسائل کی دلدل میں پھنسے عوام کسی حد تک سکھ کا سانس لینے لگیں گے۔ سیاسی پنڈتوں کے مطابق چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کے سیاسی عزائم ہیں یا کچھ اور کم سے کم ان کی ہر محکمے سے پوچھ گچھ سے عوام ضرور مطمئن ہیں۔ اکثر سیاسی قائدین دبے لفظوں میں یہ کہتے پائے گئے ہیں کہ ریاست کے ہر ادارے کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے ان سے کوئی یہ پوچھے کہ جب ادارے آئینی حدود کے اندر یا باہر کام ہی نہ کرنا چاہیں تو اس صورت میں کیا کرنا چاہیے؟ لیکن یقین ہے کہ ان کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں ہونا۔ بہرکیف 6 جون بروز بدھ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار ایک بار پھر پشاور تشریف لائے، سپریم کورٹ پشاور رجسٹری کے کورٹ روم میں انہوں نے جسٹس شیرعالم کے ہمراہ کئی اہم ترین مقدمات کی سماعت کی۔ پہلا کیس کسی بیوہ خاتون کا تھا جسے حق مہر نہیں دیا گیا تھا اور جج نے فیصلہ بھی ان کے خلاف دیا تھا۔ اس پر چیف جسٹس نے سیشن جج کو فوری طور پر عدالت طلب کر لیا، اپنے ریمارکس میں ان کا کہنا تھا کہ ہم دوسروں کے کام دیکھ رہے ہیں لیکن ہمیں عدلیہ کو بھی دیکھنا ہوگا سب سے پہلے ہماری عدلیہ میں انصاف کے تقاضے پورے ہونے چاہیں۔ چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا اعظم خان صوبے میں وی آئی پی افراد کے پاس موجود سرکاری گاڑیوں کے حوالے سے کیس میں پیش ہوئے اور بتایا کہ تمام وی آئی پی افراد سے سرکاری گاڑیاں واپس لے لی گئ ہیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اب ان گاڑیوں کا کیا کرنا ہے؟ یہ گاڑیاں ان افسران کے پاس ہونی چاہیں جو حقدار ہیں اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی خیال رہے کہ یہ گاڑیاں خراب نہ ہوں، ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہ ہو کہ گاڑیاں ایسی جگہ کھڑی کر دی جائیں جہاں ان کے اندر کی قمیتی چیزیں اور پارٹس غائب ہو جائیں۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے چیف سیکرٹری سے سرکاری گاڑیوں کے بہتر استعمال کے حوالے سے پروپوزل 10 روز میں طلب کر لیا۔ اگلی سماعت خیبر پختونخوا میں بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کے حوالے سے تھی جس میں پیسکو کی جانب سے پیش ہونے والے نمائندے پر چیف جسٹس نے سخت برہمی کا اظہار کیا ان کا کہنا تھا کہ اتنی شدید گرمی میں آپ خود ٹھنڈے ٹھار کمروں میں بیٹھے رہتے ہیں اور عوام کو رمضان کے بابرکت مہینے میں بھی بجلی سے محروم رکھا ہوا ہے۔ پیسکو نمائندے کا کہنا تھا کہ صوبے کی ضرورت 3000 میگا واٹ ہے جبکہ ہمیں 2100 میگاواٹ بجلی مل رہی ہے کیونکہ ہمارے پاس 2100 میگاواٹ سے زیادہ بجلی حاصل کرنے کی گنجائش نہیں ہے، ہمارا انفراسٹرکچر کمزور ہے، جس پر چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ جب آپ اپنی ضرورت کے مطابق بجلی حاصل ہی نہیں کر سکتے تو یہ آپ کی نااہلی ہے، 20 سالوں میں عوام سے اربوں روپے وصول کرنے کے باوجود آپ اپنا انفراسٹرکچر کیوں ٹھیک نہیں کر سکے؟ اگر آپ کی تنخواہ آدھی کر دی جائے اور کام پورا لیا جائے تو آپ کو کیسا لگے گا؟ عوام سے بل پورا وصول کرتے ہیں اور انہیں بجلی کم دیتے ہیں آپ کی نااہلی کا خمیازہ غریب عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ابھی اگر آپ کی کمپنی کا فرانزک آڈٹ کروائیں تو بہت سی چیزیں سامنے آجائٰیں گی، کیا یہ لوگ پاکستانی نہیں ہیں، انہیں ان کا حق کیوں نہیں مل رہا۔ چیف جسٹس نے وفاقی سیکرٹری پانی و بجلی کو مکمل ریکارڈ سمیت اگلی سماعت پر طلب کر لیا۔ پشاور کی سڑکوں پر غیرضروری رکاوٹوں کے ازخود نوٹس کی سماعت میں چیف سیکرٹری اعظم خان نے چیف جسٹس کو بتایا کہ شہر بھر میں 84 چیک پوسٹیں تھیں جن میں 59 پولیس کی اور 25 آرمی کی چیک پوسٹیں تھی۔ پولیس کی 59 میں سے 36 چیک پوسٹیں ختم کر دی گئی ہیں باقی ماندہ 23 میں سے 13 دیہی و نواحی علاقوں میں ہیں جبکہ 10 میں سے 4 شہر کے سٹی ایریا اور 6 ریڈزون یعنی کینٹ ایریا میں موجود ہیں۔ آرمی کی 25 میں سے 7 چیک پوسٹیں ختم کر دی گئی ہیں۔ 18 حساس علاقوں میں ہیں جن کی موجودگی ضروری ہے۔ اسی طرح شہر بھر میں 13 بلاکڈ روڈز تھیں جن میں سے 8 کھول دی گئی ہیں جبکہ 5 مختلف قونصلیٹ اور حساس اداروں کے دفاتر والی روڈز ہیں۔ شہر بھر کی 37 مختلف عمارتوں پر بیریئرز تھے جو تمام کے تمام ختم کر دیئے گئے ہیں۔ چیف جسٹس نے اس کارکردگی کو سراہتے ہوئے اطمینان کا اظہار کیا۔ ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے ازخود نوٹس کی سماعت میں محکمہ ماحولیات کی جانب سے بتایا گیا کہ صوبہ بھر میں سیمنٹ پلانٹس 7، چپ بورڈ یونٹس 14، کریش پلانٹس 675، بریکلین 881 اور شوگر ملیں 6 ہیں۔ انوائرمینٹل پروٹیکشن ٹربیونل نے 10 ماہ کے دوران 828 میں 279 کیسز کا فیصلہ کیا ہے۔ جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ تمام کیسوں کا فیصلہ کیوں نہیں کیا گیا، انہوں نے انوائرمینٹل پروٹیکشن ٹربیونل کے سربراہ کو اگلی سماعت پر طلب کر لیا، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پشاور کا شمار پاکستان کے آلودہ ترین شہروں میں ہوتا ہے، پرائیویٹ میڈیکل کالجز کے ازخود نوٹس کی سماعت پر چیف جسٹس نے سب سے زیادہ برہمی کا اظہار کیا، ان کا کہنا تھا کہ نجی میڈیکل کالجز کو قوم کے بچوں کا مستقبل داؤ پر لگانے نہیں دیا جائیگا۔ پی ایم ڈی سی کے نمائندے نے چیف جسٹس کو بتایا کہ اب تک 98 میڈیکل کالجز کا معائنہ کیا جا چکا ہے۔ 16 میڈیکل کالجز کی رپورٹ تیار ہے جبکہ باقی کی رپورٹس بھی جلد تیار کر لی جائینگی۔ ان کا کہنا تھا کہ 80 میڈیکل کالجز ایسے ہیں جہاں بچوں سے فیسوں کے علاوہ عطیات بھی لئے گئے ہیں۔ 3 دنوں میں اب تک 29 کروژ روپے وصول کر کے بچوں کو واپس کئے جا چکے ہیں۔ اس موقع پر موجود الرازی میڈیکل کالجز کے طلبا نے انتظامیہ کے خلاف شکایات کے انبار لگا دیئے، چیف جسٹس نے الرازی میڈیکل کالج کے اونر کو برہمی سے مخاطب کرتو ہوئے کہا کہ لگتا ہے آپ عید باہر نہیں اندر کرنا چاہتے ہیں۔ چیف جسٹس نے پرائیویٹ میڈیکل کالجز کو تین ہفتوں میں اپنا قبلہ درست کرنے کا حکم دیا جس کے بعد ان کے خلاف مقدمات درج کرنے کی ہدایات جاری کردیں۔ پینے کے صاف پانی کے حوالے سے کیس کی سماعت میں چیف جسٹس نے اسفتسار کیا کہ صنعتی فضلہ دریاؤں اور نہروں میں گرتا ہے اور پھر وہی پانی کھیتوں میں سبزیوں اور پھلوں کے لئے استعمال ہوتا ہے کیا یہ درست ہے؟ انہوں نے اس پر برہمی کا اظہار کیا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے پانچ سالوں میں اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے کیوں کچھ نہیں کیا؟ چیف سیکرٹری نے بتایا کہ 3 سے 5 سال کا ایک ماسٹر پلان تیار کیا گیا ہے جس پر 23 بلین کی لاگت آئیگی، چیف سیکرٹرے نے بتایا کہ وزیراعلیٰ نے حکومت کے آخری دنوں میں اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ اس معاملے میں ان سے بڑی کوتاہی ہوئی ہے۔ جعلی اور عطائی ڈاکٹروں کے حوالے سے ہیلتھ کیئر کمیشن کو بھی اپنی کارکرگی بہتر بنانے کی ہدایت کی گئی۔ چیف جسٹس نے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں جعلی ڈاکٹر کی موجودگی کا نوٹس لیتے ہوئے ہاسپٹل ڈائریکٹر اور ڈین کو اگلی سماعت پر طلب کر لیا۔ ایم ٹی آئیز میں بے قاعدگیوں کے حوالے سے کیسز کی سماعت میں انہوں نے ایم ٹی آئیز کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا انہوں نے فوری طور پر تمام ایم ٹی آئی سرکاری ہسپتالوں کے بورڈ آف گورنرز تحلیل کرنے اور تین ہفتوں میں نئے بورڈز تشکیل دینے کے احکامات جاری کریئے۔ ایم ٹی آئی کی حمایت اور مخالفت کرنے والے کئی ڈاکٹرز کی کمرہ عدالت میں شورشرابے پر بھی انہوں نے برہمی کا اظہار کیا اور اپنے ریمارکس میں کہا کہ آپ کو شرم آرہی ہے یا نہیں لیکن مجھے شرم آرہی ہے کہ آپ جیسا پڑھا لکھا طبقہ عدالت کے تقدس کو پامال کر رہا ہے۔

No comments:

Post a Comment