Tuesday, 21 August 2018

Imraniyaat.Khan Sahib ab aap ki baari hai


خان صاحب ! اب آپ کی باری ہے
عمران یوسف زئی
iky.journalist@gmail.com


سترہ گست 2018 وہ تاریخی دن ثابت ہوا جب 26 سال پہلے ملک کے لئے پہلی بار کرکٹ کا ورلڈ کپ جیتنے والا کھلاڑی ملک کا سربراہ بن گیا۔تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو پارٹی سربراہ سے ملک کا سربراہ بننے میں 22 سال کا عرصہ لگا اور بلاشبہ دو دہائیوں پر محیط یہ عرصہ مسلسل جدوجہ اور دن رات محنت سے عبارت ہے۔عمران خان کی پوری زندگی کو اگر دیکھا جائے تو وہ جہدمسلسل اور سخت محنت سے عبارت ہے، قومی ٹیم میں جگہ بنانے سے لے کر ٹیم کا سربراہ بننے تک، ٹیم کو مضبوط کرنے سے لے کر عالمی کپ جیتنے تک ، سیاست میں آنے سے لے کر شوکت خانم کینسر ہسپتالوں اور نمل یونیورسٹی کی تعمیر تک اور قومی اسمبلی میں ایک نشست جیتنے سے لے کر ملک میں ٹو پارٹی سسٹم میں دراڑیں ڈالنے تک۔۔۔شاید ہی کوئی دن اس کپتان نے آرام اور سکون سے گزارا ہو۔۔۔اور بلاشبہ اللہ کسی کی محنت بھی ضائع نہیں کرتا ، اس کے معاملوں میں دیر ہو سکتی ہے اندھیر نہیں۔2013 کے انتخابات سے پہلے کسی نجی چینل پر انٹرویو کے دوران عمران خان کا ایک جملہ یاد آ رہا ہے جب انہوں نے سر اٹھا کر بڑی حسرت سے فریاد کی تھی کہ ’’میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ مجھے ایک موقع ضرور دے میں اس ملک میں کسی کرپٹ کو نہیں چھوڑوں گا۔‘‘ شاید ایسے ہی کسی قبولیت کے وقت مانگی گئی دعاؤں نے اثر دکھایا اور آج عمران خان اپنی منزل پر پہنچ گئے ہیں لیکن صرف منزل تک پہنچنا اصل کامیابی نہیں ہے، اصل کامیابی ان وعدوں کو پورا کرنا ہے جن کی تکمیل کے خواب کے طور پر عوام نے انہیں اقتدار کے ایوان میں بھیجا ہے۔ عمران خان کو اب یاد رکھنا ہوگا کہ عوام نے اپنے حصے کا کام کر دیا ہے اب خان صاحب کی باری ہے۔اس حوالے سے عمران خان کو سب سے پہلے اور سب سے زیادہ خیبر پختونخوا کے عوام کا شکریہ ادا کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ 2013 میں جب پورے ملک کسی صوبے میں ان پر بھروسہ نہیں کیا گیا تب صرف اس پسماندہ صوبے نے ان پر اعتبارکیا، ان کے وعدوں ، دعووں اور تبدیلی کے نعرے کو شرف قبولیت بخشا اور یہاں ان کی پارٹی کو حکمرانی کا موقع فراہم کیا۔ خان صاحب نے 2013 کے انتخابات میں پشاور کے این اے 1 سے جیتی ہوئی نشست بھی چھوڑدی حالانکہ سیاسی حلقوں کے ساتھ ساتھ عام لوگوں نے بھی اسے عمران خان کا کوئی زیادہ مقبول فیصلہ قرار نہ دیا اور اس کا نتیجہ بھی فوری طور پر سامنے آگیا اور پی ٹی آئی حکمران جماعت ہونے کے باوجود صرف ڈھائی ماہ بعد اپنی یہ نشست ہار گئی۔بہرکیف خیبر پختونخوا کے لوگوں نے تحریک انصاف کو دل و جان سے خوش آمدید کہا اور کئی مواقعوں پر دیگر غیر مقبول فیصلوں کو بھی سراہتے ہوئے تبدیلی کو سینے سے لگایا۔ اس حوالے سے یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ تحریک انصاف نے یقینی طور پر صحت، تعلیم، پولیس ، ماحولیات سمیت مختلف شعبوں میں تبدیلی لانے کی بھرپور کوشش کی، بہت سے چیزیں بدل بھی گئیں جو نہ بدل سکیں انہیں تحریک انصاف نے عوام کے کھاتے میں ڈال دیا ۔ اس دوران دھاندلی کے خلاف عمران خان کے ملک گیر احتجاج میں بھی اگر کسی صوبے نے سب سے بڑھ کر حصہ لیا تو وہ خیبر پختونخوا کے سوا کوئی نہیں تھا۔پانچ سال تک اس صوبے پر حکمرانی کرنے والی تحریک انصاف کا سب سے غیرمقبول فیصلہ اگر بی آر ٹی کو قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ساڑھے چار سال تک خان صاحب پنجاب حکومت اور شریف برادران کو جس جنگلہ بس کے طعنے دیتے رہے آخری چھہ ماہ میں اسی جنگلہ بس کو پشاور کے لوگوں پر مسلط کرنا آج تک سمجھ سے باہر ہے اور یہ منصوبہ آج بھی عوام کے لئے سہولت کے بجائے زحمت کا باعث ہی بن رہا ہے، تکمیل کے بعد بلاشبہ یہ عوام کو ریلیف ضرور دے گا لیکن تکمیل تک جس اذیت سے پشاور کے لوگ گزرچکے ہوں گے اس کا ازالہ تو کسی صورت ممکن نہیں ہے۔2018کے انتخابات میں جہاں ملک بھر میں تحریک انصاف کو پذیرائی ملی وہیں خیبر پختوا کے عوام نے بھی صوبے کی سیاسی تاریخ میں پہلی بار کسی سیاسی جماعت کو حکومت کرنے کا دوسرا موقع دیا ہے۔تحریک انصاف کی ملک گیر کامیابی بلاشبہ خیبر پختونخوا میں ان کی کارکردگی کی ہی مرہون منت رہی ہے۔ تحریک انصاف نے ملک میں دو جماعتی سیاست کو دفن کر رکھ دیا ہے اور یقینی طور پر صرف 22 سال پرانی یہ جماعت آج ملک کی تیسری بڑی سیاسی قوت بن چکی ہے۔عمران خان نے اب اپنے 100 دن کے ویژن کو پورا کرنا ہے۔ بحیثیت مجموعی ہم بہت جلد باز قوم واقع ہوئے ہیں 70 سال کی گندگی 70 دنوں میں ختم کرنے کی خواہش رکھتے ہیں، جسے کسی دیوانے کا خواب ہی کہا جا سکتا ہے لیکن پھر بھی عمران خان کو فوری طور پر ایسے اقدامات ضرور اٹھانے چاہیءں جن سے عوام فرق محسوس کریں۔ نومنتخب وزیراعظم کا وزیراعظم ہاؤس میں نہ رہنے کا اعلان، ان کے نامزدکردہ گورنرز کا گورنرہاؤسز میں نہ رہنے اور اخراجات میں کمی کے اعلانات پہلے ہی عوام کو بھا چکے ہیں۔ پارلیمنٹ میں وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں عمران خان نے کڑے احتساب کا نعرہ بھی لگایا ہے یہ وہ مقبول ترین کام ہوگا جس کے لئے عوام کئی دہائیوں سے ترس رہے ہیں، اس ملک کو لوٹنے کھسوٹنے والوں کے احتساب کے دعوے تو بہت کئے گئے لیکن وہ صرف سیاسی دعوے ہی ثابت ہوئے، عمران خان اگر اس کام میں کامیاب رہے، اس ملک کی لوٹی ہوئی دولت واپس لے آئے، انصاف کا نظام قائم کر گئے، میرٹ کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنا گئے تو یقین مانیے کہ یہ عوام اگلی کئی بار تحریک انصاف کو برسراقتدار لانے سے گریز نہیں کریں گے۔ عمران خان اس ملک کی واحد شخصیت ہیں جن کی ایک آواز پر عوام کروڑوں روپے جمع کر سکتی ہے وجہ صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ عمران خان قابل بھروسہ ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کا اب یہ بھروسہ برقرار رکھنا ہوگا اور میں اپنی بات ایک بار پھر دہرانا چاہوں گا کہ عمران خان کو اب یاد رکھنا ہوگا کہ عوام نے اپنے حصے کا کام کر دیا ہے اب خان صاحب کی باری ہے۔

No comments:

Post a Comment